روحانی درسگاہ میں داخلے کی شرائط

 روحانی درسگاہ میں داخلے کی شرائط درج کی جا رہی ہیں، جن کا پورا کرنا ہر داخلہ لینے والے پر لازم ہے۔

داخلہ فارم مکمل پر کرنا۔
پاکستان سے باہر والوں کے داخلہ فارم شناختی کارڈ اور تصاویر واٹس ایپ یا ای میل کرنا لازمی ہے۔
پاکستان والوں کے لئے داخلہ فارم مکمل پُر کر کے ادراے کے ایڈریس پر بھیجعوانا لازمی ہے 
(1
داخلہ فیس ادا کرنا۔ (اس وقت ایک ہزار روپے داخلہ فیس ہے)۔  پاکستان سے باہر والوں کے لیے بھی داخلہ فیس ادا کرنا ضروری ہے۔ (2
داخلہ فیس ناقابلِ واپسی /انتقال ہوگی۔اسی طرح کسی بھی عمل یا کورس کے لیے جو فیس /ھدیہ/صدقہ دیا جائے گا، وہ بھی ناقابلِ واپسی/انتقال ہوگا اور نا ہی عمل لینے کے بعد اس عمل کو کسی دوسرے عمل سے تبدیل کیا جائے گا۔عمل لینے سے پہلے کسی معتبر عمل سے مشورہ کر لیں یا روحانی درسگاہ کے ناظمیں سے مشورہ کر لیا جائے۔ تاکہ آپ اور ہم اس پریشانی سے بچ سکیں۔ (3
دو عدد تصاویر پاسپورٹ سائز جس میں آنکھیں کھلی ہوں اور سامنے دیکھ رہے ہوں۔ خواتین کے لیے بھی تصاویر لازم ہیں۔ پردہ دار خواتین نقاب والی تصاویر دے سکتی ہیں۔ آنکھیں نظر آنا ضروری ہے۔ (4
شناختی کارڈ (جو ایکسپائر نہ ہوا ہو) کی ایک عدد صاف کاپی۔ پاکستان سے باہر والے حضرات و خواتین شناختی کارڈ یا جو بھی اس ملک کا شناختی کارڈ ہو، اس کو اسکین کرکے ای میل کر سکتے ہیں۔ (5
ماہنامہ خزینہ روحانیات کی سالانہ ممبرشپ حاصل کرنا۔  داخلہ لینے والوں نے اگر ممبرشپ جاری نہ رکھی تو روحانی درسگاہ کی طرف سے دی جانے والی رعایت سے وہ محروم ہو جائیں گے۔ (6
 تبدیلی پتہ، موبائل نمبریا رابطے کے کسی بھی ذرائع میں کوئی تبدیلی ہو تو ادارے کو فوری مطلع فرمائیں۔ (7
ایک بیانِ حلفی کہ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں روحانی درسگاہ سے سیکھے گئے کسی بھی روحانی علم کو غلط اور حرام کے لیے استعمال نہیں کروں گا / گی۔اگر میں روحانی درسگاہ کی طرف سے سیکھائے جانے والے کسی بھی عمل کو غلط استعمال کروں تو سرپرست/ناظم /منتظم درسگاہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ میرا عمل سلب کر سکتے ہیں۔ (8

 

روحانی درسگاہ سے سیکھے گئے تمام علوم کو (خاص کر چلہ کشی اور عملیات) بغیر درسگاہ سے اجازت لیے، آگے اجازت دینے یا سکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ کچھ لوگ بہت جلدی لوگوں کو سکھانا شروع کر دیتے ہیں جبکہ وہ خود تربیت یافتہ نہیں ہوتے ہیں۔ اس طرح وہ خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور دوسرے بھی۔ ایسے لوگوں کی درسگاہ سے اجازت اور فیض ختم ہو جاتا ہے۔ (9
صرف روحانی درسگاہ سے سیکھے گئے اعمال /کورسز کے بارے میں رہنمائی کی جائے گی۔ (10
میں ادارے کے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کروں گا/گی۔ میرے علم میں ہے کہ اگر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تو سرپرست/ناظم /منتظم درسگاہ کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ میرے خلاف کاروائی کرے جس میں درسگاہ سے خارج کرنا بھی شامل ہے۔ نیز سزا کے طور پر کسی خاص عمل کا سلب کرنا یا تمام عمل سلب بھی کیے جا سکتے ہیں۔کسی عمل کی اجازت یا تمام اجازتیں بھی منسوخ ہو سکتی ہیں۔مجھے اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ اگر میری خلاف ورزی کا کسی کو پتہ نہ بھی لگا تومیرے اعمال کی غیبی مخلوق مجھے سزا دے سکتی ہے۔ (11

 

کاپی رائٹ © تمام جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ دارالعمل چشتیہ، پاکستان  -- 2020



Subscribe for Updates

Name:

Email: